487

مدینے کی ریاست کو مدعی بننا ہوگا،،،انعم ملک

مدینے کی ریاست کو مدعی بننا ہوگا

انعم ملک

انعم ملک

 قصور کی بے قصور چھ سالہ زینب سے زیادتی کے 4 برس گزر گئے ۔۔ بد قسمتی سے بچوں سے زیادتی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اگر زینب کے کیس سے ہی بچوں سے زیادتی کرنے والے درندہ صفت انسان کو سر عام پھانسی دینے کا سلسلہ جاری ہوا ہوتا تو شاید اب تک بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں کمی ضرور آئی ہوتی اور چارسدہ کی ایک اور زینب جو صرف ڈھائی سال کی تھی وہ بچی شاید آج بچ گئی ہوتی

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ روز بروز معاشرتی  اخلاقی پستی کا شکار ہوتا جا رہا ہیں،۔مدینے کے اس ریاست میں نہ تو کوئی بچی ، محفوظ ہے نہ ہی کوئی بچہ ، نہ ہی کوئی لڑکی ، اور نہ ہی کوئی عورت ، ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں مُردوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کے واقعے ہوئے ہے ۔چلوں مان لیتے ہے کہ لڑکیاں، عورتیں گھر سے بے وقت نکلتی ہے دیر سے انہیں نہیں نکلنا چائیے۔ ہاں لباس بھی صحیح پہننا چائیے ہر بات کا خیال رکھنا چائیے۔ لیکن ! یہ بھی تو بتا دے کوئی کہ مرد کی نظریں بھی کیا عورت ہی جا کر جھوکائینگی کیا؟؟ کیا اسلام نے صرف عورت کو ہی پردہ کرنے کا حکم دیا ہے ؟ مرد حضرات کے لیے اسلام میں پردے کا کوئی حکم نہیں ہے کیا؟؟؟

قصور کی بے قصور زینب

 آئیں !! اب بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی بات کرتے ہے۔ چلیں مان لیتے ہے کہ عورتیں بے پردہ ہے تب ہی حوس کا نشانہ بنتی ہے ڈھائی سال کی چارسدہ کی زینب نامی بچی کا کیا قصور تھا ؟؟؟جو چھ اکتوبر کو لاپتہ ہوئی اور آٹھ اکتوبر کو اس ننھی بچی کی نعش کھیت سے ملی۔ اس بچی کا کیا قصور اب ؟؟اس بچی کو تو بولنا تک نہیں آتا تھا کیوں بنی حوس کا شکار ؟؟؟بات یہاں ختم نہیں ہوتی اسلام آباد جو دارلخلافہ ہے وہاں کی دس سالہ فرشتہ کو ہم اب بھی بھولیں نہیں ہے ۔مردان کی حسینہ،نوشہرہ کی عوض نور،اور ایسی بہت بچیاں درندگی کا نشانہ بنی ہے ۔اور ایسے بہت کیسیز ہے جو سامنے نہیں آئے ہیں۔

 خیبر پختونخوا کی بات کرے تو خیبرپختونخوا میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں بچوں سے زیادتی کے 143 واقعات ہوئے جبکہ 2020 میں 182 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ جنسی زیادتی کے بعد 2019 میں 3 بچوں کو قتل کیا گیا جبکہ 2020 میں 4 بچے جنسی تشدد کے بعد قتل ہوئے، 2019 میں جنسی تشدد اور بچوں کے قتل کے واقعات میں 264 افراد گرفتار ہوئے جبکہ 2020 میں یہ تعداد کم ہو کر 235 رہ گئی۔ 2019 میں 134 لڑکوں اور 50 لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے۔

2019 میں 3 بچوں کو. جنسی تشدد کے بعد قتل کر کیا گیا۔

 2019 میں جنسی تشدد کے جرم میں 248 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ 2020 میں 182 افراد کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جنسی تشدد کے بعد 4 افراد کو قتل کیا گیا۔ 2020 میں 235 افراد گرفتار ہوئے جنسی تشدد کے سب سے زیادہ واقعات ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آئے۔ ڈی آئی خان میں 34 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسرے نمبر پر پشاور ہے ۔جہاں 26 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مردان میں 19 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بننے جبکہ ایک کو قتل کیا گیا۔ اب بات کرتے ہے تنظیم برائے پائیدار معاشی ترقی کی سال 2020 رپورٹ کی۔ جس میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور استحصال کے اعداد و شمار کچھ یوں ہے۔ میڈیا رپورٹ 1365 سرکاری رپورٹ۔ 12309 مطلب میڈیا رپورٹ سے کئی گناہ زیادہ واقعات پولیس میں رپورٹ ہوئے دوسری طرف ایسے واقعات بھی بہت ہیں جو رپورٹ نہیں ہوئی۔ اب بچوں کے ساتھ زیادتی اور استحصال کے اعداد و شمار کی بات کرتے ہیں ۔

چارسدہ کی بے قصور ذینب

 میڈیا رپورٹ 590 سرکاری رپورٹ 1053 مطلب ایسے بہت کیسیز درج ہوتے ہے کچھ میڈیا کے زریعے منظر عام پر آجاتے ہے اور کچھ رہ جاتے ہے۔ خواتین سے گھریلو تشدد کے واقعات میڈیا رپورٹ 158 سرکاری رپورٹ 573 عقل حیران رہ جاتی ہے دیکھیں کتنے گنا کیسیز رپورٹ ہوئے ہے ایسے بہت سے رپورٹ یقینا رپورٹ نہیں ہوئے ہونگے۔

 حضور پاک صلى الله عليه واله وسلم فرماتے ہے ۔ بیٹی رحمت ہے۔ لیکن آج کے دور کے اس معاشرے کے لوگوں کی وجہ سے ہر ماں ،ہر عورت اس معاشرے میں بچی کا پیدا ہونا ایک بڑی بد قسمتی سمجھتی ہے ۔کیونکہ بچیاں بچپن میں بھی درندگی کا شکار ہوتی ہے ۔ اگر لڑکی جوان ہے تب بھی حوس کا شکار ہوتی ہے۔

جناب یہ وہ معاشرہ ہے جہاں بچیاں کیا بچے بھی محفوظ نہیں ہے ۔نہ تو یہ مدینے کی ریاست بنی، نہ ہی ایک پاکستان۔ جی یہ ہے ایک نہیں دو پاکستان۔ یہاں امیر کے بچوں کو انصاف جلد ملتا ہے۔ غریب کو انصاف ملتا نہیں اور جب ملتا بھی ہے تو اتنی دیر ہوئی ہوتی ہے کہ ان کے دل کے کلیجے کے ٹکڑے ہوئے ہوتے ہے اور اس سے خوب کھیلا گیا ہوتا ہے ۔ ان درندوں اور حکومت کو اور قانون کے رکھوالوں کو یہ جاننا چائیے کہ ایک بچی سے زیادتی یا قتل صرف ایک بچی کا قتل نہیں بلکہ پورے معاشرے کا قتل ہوتا ہے ۔انسانیت کا جنازہ یہاں روز نکلتا ہے۔

 ایک رپورٹ کے مطابق آٹھ بچوں کے ساتھ روز جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے ہے ۔ افسوس ،مذمت،تحقیقات،کمیٹی،کمیشن،یہ سب باتیں پھر ہونگی مگر سچ تو یہ ہے کہ درندگی ،حیوانیت اور زیادتی کا یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں جب تک سر عام پھانسی کا قانون نا بنا دیا جائے ۔اسکے ساتھ ساتھ بچوں پر زیادتی کے واقعات کی روک تھا کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور ان درندوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ،

 آخر میں ان والدین سے بھی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی نگرانی خود کرے کل کو انصاف کے لیے در بدرد ٹھوکر کھانے سے بہتر ہے کہ آپ خود اپنے بچوں کا خیال رکھیں ان پر نظر رکھیں۔اپنے بچوں کو سمجھائے اچھی اور بری بات کا فرق سمجھائیں۔اخلاقی اور غیر اخلاقی کیا کیا حرکات ہوتی ہے؟؟ اپنے بچوں کو آسان لفظوں میں بتائیں۔اپنے بچوں سے روز کے روٹین کا پوچھیں؟؟ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔جہاں جہاں آپ ک بچے پڑھنے جاتے ہے وہاں کے ماحول کو دیکھیں اور اپنے بچے کو اعتماد میں لے اور روزمرہ کی بنیاد پر اپنے بچوں سے ان کے سکول،مدرسہ میں گزرے ہوئے وقت اور کام کا پوچھیں ؟؟

خبردار ! بچوں کے معاملے میں اپنے رشتہ داروں پر بھی یقین مت کرے۔ اور نا ہی کسی ایرے گیرو پر یقین کرے کل کو پچتائینگے آپ کے بچے آپ کی زمہ داری ہے۔ بچوں کا درد صرف اس کے والدین کو ہی محسوس ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کی زندگی کا چراغ بجھنے سے بچائے اور اس کا خیال خود ہی رکھے کیونکہ یہ زمہ داری والدین کی سب سے پہلے بنتی ہے ۔ زمہ دار والدین بنئیے۔

 زمہ دار شہری بنیئے ۔

بچوں کے محافظ بنئیے ۔

اپنے اور اس معاشرے کے مستقبل کو بچائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں