379

حضرت زید بن سعنہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جو پہلے ایک

حضرت زید بن سعنہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جو پہلے ایک یہودی عالم تھے انہوں نے حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کھجوریں خریدی تھیں۔ کھجوریں دینے کی مدت میں ابھی ایک دو دن باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے انتہائی تلخ و ترش لہجے میں سختی کے ساتھ تقاضا کیا اور آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دامن اور چادر پکڑ کر نہایت تند و تیز نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور چلا چلا کریہ کہا کہاے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تم سب عبدالمطلب کی اولاد کا یہی طریقہ ہے کہ تم لوگ ہمیشہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں دیر لگایا کرتے ہو اورٹال مٹول کرنا تم لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آپے سے باہر ہو گئے اور نہایت غضب ناک اور زہریلی نظروں سے گھور گھور کر کہا کہاے خدا کے دشمن ! تو خدا کے رسولﷺ سے ایسی گستاخی کر رہا ہے ؟ خدا کی قسم ! اگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب مانع نہ ہوتا تو میں ابھی ابھی اپنی تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا۔ یہ سن کر آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہاے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ مجھ کو ادائے حق کی ترغیب دے کر اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کر کے ہم دونوں کی مدد کرتے۔ پھر آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہاے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو اس کے حق کے برابر کھجوریں دے دو، اور کچھ زیادہ بھی دے دو۔ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جب حق سے زیادہ کھجوریں دیں تو حضرت زید بن سعنہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے عمر ! میرے حق سے زیادہ کیوں دے رہے ہو ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ چونکہ میں نے ٹیڑھی ترچھی نظروں سے دیکھ کر تم کو خوفزدہ کر دیا تھا اس لئے حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمہاری دلجوئی و دلداری کے لئے تمہارے حق سے کچھ زیادہ دینے کا مجھے حکم دیا ہے۔ یہ سن کر حضرت زید بن سعنہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہاے عمر ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو میں زید بن سعنہ ہوں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہتم وہی زید بن سعنہ ہو جو یہودیوں کا بہت بڑا عالم ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی گستاخی کیوں کی ؟ حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہاے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ دراصل بات یہ ہے کہ میں نے توراۃ میں نبی آخر الزمان کی جتنی نشانیاں پڑھی تھیں ان سب کو میں نے ان کی ذات میں دیکھ لیا مگر دو نشانیوں کے بارے میں مجھے ان کا امتحان کرنا باقی رہ گیا تھا۔ ایک یہ کہ ان کا حلم جہل پر غالب رہے گا اور جس قدر زیادہ ان کے ساتھ جہل کا برتاؤ کیا جائے گا اسی قدر ان کا حلم بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ میں نے اس ترکیب سے ان دونوں نشانیوں کو بھی ان میں دیکھ لیا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ یقینا یہ نبی برحق ہیں اور اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بہت ہی مالدار آدمی ہوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا آدھا مال حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت پر صدقہ کر دیا پھر یہ بارگاہ رسالت میں آئے اور کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں آ گئے۔(دلائل النبوة ج۱ ص۲۳ و زرقانی ج۴ ص۲۵۳منقول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں