383

پشاور،خواتین پولیو ورکرز کوافسران کی جانب سے ہراساں کیے جانے کاانکشاف۔

پشاور کے خواتین پولیو ورکرز کو اپنے ہی افسران کی جانب سے ہراساں کیے جانے کاانکشاف۔ خواتین کو اپنے اعلی افسران کی جانب سے فون کالز اور غیر اخلاقی مطالبات کرنے کاانکشاف ہوا ہے۔


پشاور میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہو8ے پولیو ورکرز کا کہنا تھا کہ
اپنے سینئرز پولیو مہم ڈیوٹی کے بعد فون کالز کرتے ہیں اور کسی بھی وقت ملنے کیلئے بلاتے ہیں۔ خواتین پولیو ورکز
افسران غیر اخلاقی مطالبات کرتے ہیں۔ بات نا ماننے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہے۔
افسران پولیو مہم کے دوران ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افسران کی نازیبا رویے سے کئی خواتین پولیو ورکرز ذہنی تناؤ کا شکار ہوچکی ہیں۔
اعلی حکام اور دفاتر میں شکایات درج کرنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔
افسران کی گینگ نے کئی خواتین کو بات نا ماننے پر نوکریوں سے نکال دیا ہے۔
سی ٹی سی ادارہ میں موجود افسران کی سرپرستی میں خواتین پولیو ورکرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ پولیو ورکرز کا دعویٰ
ہیلتھ منسٹر، محکمہ صحت، انسداد پولیو ادارہ ای او سی اور اعلی حکام سے نوٹس لینے کی اپیل۔
اگر افسران کے خلاف کاروائی نا ہوئی تو تمام سٹاف پولیو مہم سے بائیکاٹ کرے گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں