399

قربانی کے کچھ مسائل

“قربانی کے کچھ مسائل “

قربانی کی اجازت

1 : اگر کوئی آدمی دوسرے کی طرف سے واجب قربانی کرنا چاہے تو اس سے اجازت لینا ضروری هے ورنہ واجب قربانی ادا نہیں هوگی بالغ صاحب نصاب اولاد کی طرف سے باپ کی قربانی کا بهی یہی حکم هے هاں جہاں ایک دوسرے کی طرف سے بلا اجازت قربانی کرنے کا عرف و رواج هو تو صراحتا اجازت لینا ضروری نہیں واجب قربانی ادا هوجائے گی.
(عالمگیری 5/302 .شامی 6/335)

2 : اندازے سے گوشت تقسیم کرنا

قربانی کا گوشت اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں وزن کرکے برابر تقسیم کرنا ضروری هے.
(البحرالرائق8/174)

3 :انشورنس کمپنی کے ملازم کی قربانی

انشورنس کا دار و مدار سود یا جوئےپر ہے،اور سود اور جوئے کی آمدنی حرام ہے،لہذا اجتماعی قربانی میں ایسے آدمی کو شریک کرنا درست نہیں. ہاں اگر اس کے پاس یا ایسے لوگوں کےپاس حلال آمدنی بهی ہے یا کسی سے حلال رقم قرض لیکر شرکت کرنا چاہے تو شریک کیا جا سکتا ہے،(درمختار 6/326 )

4 : بسم اللہ بهول گیا

اگر جانور کو ذبح کرنے والا بسم اللہ بهول گیا تو اس جانور کا گوشت حلال هے استعمال کرنا درست هے کیونکہ ذابح مسلمان هے غیراللہ کے نام ذبح نہیں کیا هوگا.
(فتاوی شامی 6/299)

5 : تکبیرات تشریق

اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد، 9 ذوالحجہ کی نمازفجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک نماز کے فورا بعد ایک مرتبہ پڑهنا واجب هے.
(فتاوی عالمگیری 1/152)

6 : جانوروں کی عمریں.

قربانی کےلئےجانوروں کی عمریں متعین ہیں،
بکرا ایک سال کا هو
گائے,بیل اور بهینس دو سال کی.
اونٹ 5 سال کا هونا ضروری هے متعینہ عمر سے کم هونے کی صورت میں قربانی جائز نہیں هوگی.
البتہ بھیڑ،دنبہ اگر 6 مہینے سے زیادہ اور سال سے کم کا هو اور سال کا لگ رہا ہو تو اس کی قربانی درست ہے.
(بدائع الصنائع 5/70 )

7 : جلدی بیماری

اگر کسی جانور کو جلد کی بیماری هے،اور اس کا اثر گوشت تک نہ پہونچا هو تو اس کی قربانی درست هے، اور اگر بیماری اور زخم کا اثر گوشت تک پہونچا هو تو اس کی قربانی صحیح نہیں.
(البحرالرائق 8/176)

8 : مکروه تحریمی چیزیں

حلال جانور کے بھی سات اجزاء مکروه تحریمی هیں جن کا کهانا جائز نہیں اور وہ یہ ہیں،
دم مسفوح یعنی بہنے والا خون
پیشاب کی جگہ
خصیے” فوطے
پاخانے کی جگہ
غدود سخت گوشت
مثانہ پیشاب کی تھیلی
پتہ تا کی شد کے ساتهہ
(فتاوی شامی 6/749)

9 : پالے هوئے جانور میں قربانی کی نیت کرنا

گهر میں پالے هوئے جانور کے بارے میں یہ نیت کی کہ قربانی کے دنوں میں اس جانور کی قربانی کرےگا تو اس نیت سے اس جانور کی قربانی لازم نہیں هوگی.ایسے جانور کو بدلنا اور فروخت کرنا بهی جائز هے،
( فتاوی شامی 6/321 )

10 : دم بریدہ جانور کی قربانی

ایک تہائ سے زیادہ دم کٹے جانور کی قربانی درست نہیں،
(فتاوی عالمگیری 5/298)

11 : دودھ نکالنا

قربانی کی نیت سے خریدے ہوئے جانور سے دودھ نکالنا جائز نہیں،اگر کسی نے ایسا کیا اور دودھ نکال لیا تو دودھ یا اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب هوگا.
(البحرالرائق 8/176)

12 : ذبح کی تیاری میں عیب پیدا هونا

اگر ذبح کی تیاری میں عیب پیدا هوگیا ،ٹانگ ٹوٹی یا آنکھ خراب هوگئی تو کوئ حرج نہیں قربانی درست هے.
(هندیہ 5/299)

13 : اختیاری ذبح کے شرائط

1 :ذبح کرنے والا مسلمان یا کتابی ہو
2 :ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا جائے
3 :شرعی طریقہ کے مطابق حلقوم اور سانس کی نالی،اور خون کی رگیں کاٹ دی جائیں

14 : سینگ

جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہو یا ہو لیکن ٹوٹ گئے ہو تو اس کی قربانی درست ہے البتہ اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہو تو قربانی درست نہیں
(هندیہ5/297 )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں